خوابوں کے شہر میں اجالے گُم تھے
چراغوں کا کوئی ستارہ نہ پایا
دل کے سناٹے میں وہ صدا گونجی
محبت کا کوئی اشارہ نہ پایا
غم کا سفر طویل ہوتا گیا
راستوں میں کوئی سہارا نہ پایا
آنسوؤں کی بارش میں ڈوبے رہے
دل کو کبھی قرارا نہ پایا
زندگی کی راہوں میں تنہا رہے
ساتھ دینے والا کوئی پیارا نہ پایا
بچھڑتے لمحوں کا دکھ تھا گہرا
وصل کا کوئی کنارا نہ پایا
دل کے آرزوؤں کو جلایا ہم نے
محبت میں کوئی کنارا نہ پایا
غموں کی دھوپ میں جلتے رہے
خوابوں کا کوئی سایا نہ پایا
زندگی کی رہگزر میں کھو گئے
خوشیوں کا کبھی کنارا نہ پایا
❤👉❤

